25 ستمبر 2012 - 20:30

المرسی نے امریکہ میں شرمناک کیمپ ڈيویڈ کا نام لئے بغیر بین الاقوامی معاہدے کی پابندی کا عہد کیا تو اسرائیل نے فوری طور پر ان کے اس موقف کا خیرمقدم کیا گو کہ ان بعض دیگر اقدامات بھی اسرائیل کے لئے کافی خوشایند ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق المرسی نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے بات چیت کے دوران کہا کہ مصر بین الاقوامی معاہدوں کو محترم سمجھتا ہے اور دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہے!!!المرسی کا یہ موقف سامنے آنے کے بعد جہاں مصر سمیت علاقے کے دوسرے ممالک میں المرسی سے نیک توقعات وابستہ کرنے والوں کو کافی مایوسی ہوئی وہاں غاصب یہودی ریاست کے سرکاری حکام نے اس مصری موقف کا خیرمقدم ہی نہیں کیا بلکہ اعلان کیا کہ "اسرائیل سیکورٹی مسائل کے علاوہ دوسرے شعبوں میں بھی مصر کے ساتھ تعاون کرے گا"۔ وضاحت:٭ بین الاقوامی معاہدوں سے مراد کیمپ ڈيویڈ معاہدے کے سوا کوئی بھی دوسرا معاہدہ نہیں ہوسکتا کیونکہ مصری عوام کی طرف سے کیمپ ڈیویڈ معاہدے کی منسوخی کے حوالے سے المرسی پر کافی دباؤ ہے جبکہ دوسرا کوئی بھی ایسا معاہدہ نہیں ہے جس کے حوالے سے مصری صدر پر کوئی دباؤ ہو۔ کیمپ ڈيویڈ معاہدہ و شرمناک معاہدہ ہے جو صہیونی ریاست کے آنجہانی قاتل وزير اعظم مناخیم بیگن اور مصر کے معدوم ڈکٹیٹر انورالسادات کے درمیان طے پایا تھا اور اس کے تحت مصر نے ناجائز ریاست کو تسلیم کیا اور صحرائے سینا میں فوجیں نہ رکھنا کہ عہد کیا۔٭ المرسی نے ہلیری سے کہا کہ "وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصر کے ساتھ تعاون کرے گا"، جس کا مطلب یہ تھا کہ مصر کی حکومت صحرائے سینا میں موجود دہشت گردوں کو کچلنے کے لئے اسرائیل کے ساتھ تعاون کرے گا حالانکہ مصریوں کی اکثریت اور المرسی کی آبائی جماعت "اخوان المسلمین" کے مطابق حال ہی میں صحرائے سینا میں دہشت گردوں کے حملوں میں اسرائیل ملوث ہے اور پھر دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل کی ریاست کا وجود ہی دہشت گردی پر قائم ہے اور یہ ایسی بات ہے جسے جناب المرسی نے صدر بننے سے پہلے سینکڑوں بار دہرایا ہے۔٭ مصر کے اخوانی صدر کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ انہیں عہدہ صدارت سنبھالنے کے حوالے سے فوج اور اسٹبلشمنٹ کی شدید مزاحمت کا سامنا تھا اور انھوں نے ایک خفیہ ڈيل کے تحت اقتدار سنبھالا اور اس ڈیل کے مطابق وہ کیمپ ڈيویڈ معاہدے کو نہيں چھیڑیں گے اور علاقے میں امریکی و اسرائیلی مفادات کا تحفظ  کریں گے، لیکن انہیں یہ سب کچھ اعلانیہ کہنے کا موقع نصیب نہيں ہوا اور اب جو وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لئے نیویارک پہنچے ہوئے ہیں تو انہیں محسوس ہوا ہے کہ وہ اپنا اصل موقف بیان کرسکتے ہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان سے قبل سوئس شہر "ڈیوس" (Davos) میں اردوگان نے صہیونی ریاست کے صدر کی کسی بات پر برا منایا تو دنیائے اسلام کو بہت خوشی ہوئی اور قطر کے سرکاری مفتی نے تو انہيں صحابہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے مقام تک پہنچایا لیکن شام میں ترکی ـ صہیونی ـ امریکی ـ سعودی ـ قطری ـ فرانسیسی ـ برطانوی شرارتوں کا آغاز ہوا تو جناب اردوگان فطری طور پر آل صہیون کی صف میں نظر آئے اور معلوم ہوا کہ ڈیوس میں ان کا کردار سیاسی بازیگر کا کردار تھا جس کے ذریعے انھوں نے آسمانی خلافت کے احیاء اور تمام عرب ممالک کو ہڑپ کرنے کا سپنا دیکھا ہے اور اب تو شام کے خلاف لڑنے والی ممالک علی الاعلان اسرائیل کے حامی اور شام کے دشمن بن چکے ہیں اور وہ اس سلسلے میں کسی قسم کی پردہ پوشی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اور اب مصر کے اخوانی صدر محمد المرسی بھی ـ اخوان المسلمون کے ستر سالہ نعروں کے برعکس ـ ان ہی صفوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ایک بار خبر کی طرف لوٹتے ہیں:ہلیری سے ملاقات کی کچھ باتیںامریکی وزارت خارجہ کے ایک اعلی اہلکار نے نام ظاہر کئے بغیر امریکی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان میں لکھا ہے کہ:٭ ہلیری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین پر مبنی امریکی فلم پر رد عمل کے طور پر مصری احتجاجیوں کے غیظ و غضب سے امریکی سفارتخانہ بچانے پر المرسی کا دلی شکریہ ادا کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا! ہلیری نے کہا: امریکی سفارتخانے کے سامنے غضبناک اور مشتعل مصریوں کے احتجاج کے آغاز پر صورت حال پر قابو پانے کی کوششوں کی رفتار بہت کم تھی اور ہم اس مسئلے کو سمجھتے ہیں لیکن مصری حکومت نے بعد میں بہت بہتر انداز سے پیشہ ورانہ اقدامات کرکے ہمارے سفارتخانے کی حفاظت کو یقینی بنایا اور یہ سلسلہ فعالانہ طور پر جاری ہے۔ ٭ مصری صدر سے امریکی وزیر خارجہ کی ملاقات بالکل پرسکون اور سنجیدہ تھی۔یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ سے مصری صدر کی ملاقات کی خبر کے ساتھ، المرسی سے ان کی پچھلی ملاقات کی تصویر لگائی گئی ہے جس میں مصری صدر شدت کے ساتھ ہنس رہے ہیں جبکہ ہلیری کسی اور شخص کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا رہی ہیں!مصری صدر کی ہلیری سے ملاقات اور اس ملاقات میں المرسی کے موقف پر مصری عوام کا رد عمل انٹرنیٹ کے سوشل نیٹ ورکس کے اوپر ملا جلا رہا۔ امریکی اہلکار نے المرسی ـ ہلیری ملاقات کی زیادہ تفصیلات نہیں بتائی ہیں لیکن انھوں نے ایک نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے جو ان کے اپنے خیال میں امریکی قوم کے لئے بہت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ اس ملاقات میں مصر کے صدر نے کہا: ٭ "میرا فرض بنتا ہے کہ میں امریکی سفارتخانے کی سلامتی کو یقینی بناؤں اور اس بات کو سنجیدہ لوں"۔امریکی اہلکار نے لکھا ہے:"المرسی اور ہلیری کے درمیان صحرائے سینا کی سیکورٹی اور "مصر کے پڑوسیوں (یعنی اسرائیل) کے ساتھ"، "مصر کے اندر سیکورٹی" کی بحالی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی جس میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد ـ نہ صرف سینا میں بلکہ پورے علاقے میں ـ پر زور دیا گیا اور المرسی سے کہا گیا کہ وہ اس سلسلے میں زيادہ خیرسگالی دکھائیں کیونکہ جو وسائل مصر کے پاس ہیں وہ کسی اور کے پاس نہيں ہیں"۔ واضح رہے کہ دنیا بھر کی دہشت گرد تنظیموں کا بانی خود امریکہ ہے اور اس وقت وہ شام اور عراق میں دہشت گرد تنظیموں کی علی الاعلان حمایت کررہا ہے اور اس نے حال ہی میں ایران مخالف دہشت گرد تنظیم "ایم کے او" کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کے منصوبے پر کام شروع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنظیم "چھوٹی دہشت گرد تنظیم" ہے چنانچہ اس سے "عالمی امن" (یعنی امریکہ اور اسرائیل کے امن) کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے؛ حالانکہ اس تنظیم کے پاس 17 ہزار مسلح دہشت گرد ہیں اور حال ہی میں اردن، سعودی عرب اور قطر و امریکہ کے مشورے سے عراق کی حکومت کے خلاف لڑنے کے لئے ایک تنظیم بعنوان "فری عراقی آرمی" کے منصوبے پر کام شروع ہوا ہے جس کی کمانڈ ایم کے او کے سرغنے مسعود رجوی کے سپرد کرنے کی تجویز ہے۔چنانچہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کا مطلب وہ نہيں ہے جو عام آدمی سمجھتا ہے بلکہ اس سے مراد اسرائیل کے دشمنوں کے خلاف جدوجہد کرنا اور اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور ہمارے اس مدعا کے ثبوت بہت جلد منظر عام پر آئیں گے۔ اسرائیل اور امریکی کی خوشنودی کے حصول کے لئے المرسی کا نیا اقدام؛ شام میں المرسی ملیشیا کا قیامہم جانتے ہیں کہ شام اسرائیل اور امریکہ کے خلاف علاقائی مزاحمت محاذ کا فرنٹ لائن ملک سمجھا جاتا ہے جس کے خلاف مغربی و عرب اسرائیل سازش تقریبا سولہ مہینوں سے جاری ہے اور امریکہ و اسرائیل کی خوشنودی کے لئے ہونے والی اس دوڑ میں سعودی عرب، ترکی اور قطر پیش پیش ہیں جو شام کے مسئلے کو کسی صورت میں بھی پرامن انداز میں حل نہيں ہونے دے رہے ہیں اور اب اس دوڑ میں مصر کی شمولیت نے المرسی کو مزید مشکوک اور متنازعہ بنا دیا ہے۔ العالم نے جہینہ نیوز  نے لکھا ہے:٭ ترکی نے اپنی مالی اور سیاسی امداد سے شام مخالف تنظیم "شورائے قومی" کی بنیاد رکھی جس کا سربراہ ‏"عبدالباسط سیدا" ہے۔٭ قطر نے اپنی مالی، فوجی اور سیاسی حمایت سے شام مخالف تنظیم "انقلابی ٹرسٹ" کو تقویت پہنچائی جس کا سربراہ "ہیثم المالح" ہے۔ اور٭ سعودی عرب نے اپنی مالی اور سیاسی امداد سے تکفیری وہابیوں کو "عدنان العرعور" کی قیادت میں منظم کیاجمع کردیا، تو اب ...اب مصر کے اخوانی صدر محمد المرسی کی باری ہے جنھوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد شام کی حکومت کے خلاف ایک نئی تنظیم بنا رہے ہیں جس کا نام "وسیع البنیاد قومی فورم" ہوگا اور اس تنظیم کی مالی اور سیاسی حمایت مصر کے صدر کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق المرسی کی دعوت پر بعض شامی مخالفین نے قاہرہ کے ایک مقامی ہوٹل میں متعدد جلسے کئے ہیں اور وہ بہت جلد "وسیع البنیاد قومی فورم" کے قیام کا اعلان کرنے والے ہیں۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی تنظیم کے مقاصد یہ ہیں:٭ یہ تنظیم ذرائع ابلاغ کے ذریعے شام کے مسائل حل کرنے میں مصر کے کردار کو نمایاں کرے گی اور شور شرابہ مچا کر مصر کے صدر کے حق میں ماحو بنائے گی اور شام مخالف تنظیموں کو منظم اور متحد کرنے کی کوشش کرے گی۔ ٭ اس تنظیم کی تشکیل درحقیقت شام کے معاملات میں مصر کے اخوانی صدر کی مداخلت کی تمہید ہے کیونکہ "قطر اچانک خاموشی میں مبتلا ہوچکا ہے"، "ترکی شدید بدامنی اور بد نظمی کا شکار ہوا ہے"، اور "آل سعود خاندان بلادالحرمین اور بحرین میں شدید قسم کی مشکلات میں ڈوب چکا ہے" اور اب مصری صدر شام کے خلاف ہونے والی بغاوت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں اور ان ممالک کو یکے بعد دیگر اس میدان سے نکال باہر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ٭ مصری صدر ایک ڈیل کے نتیجے میں برسراقتدار آئے ہیں ورنہ مصری عوام کے ووٹوں کے نتیجے میں انہيں صدارت ملنا ناممکن تھی اور اس ڈیل میں یہ شام کے خلاف محاذ میں شامل ہونا بھی شامل ہے۔ ٭ ترکی کو میدان سے نکال کر المرسی شام کے مسلح مخالفین کی عربی عصبیتوں کو ابھارے گا اور انہیں اپنی جانب مائل کریں گے اور یوں شام کے مخالفین ان عصبیتوں کی بنا پر ترکی سے دور ہوجائیں گے اور عرب و غیر عرب کے تعصب کو بھی ہوا ملے گی جو کہ امریکہ اور صہیونی ریاست کے فائدے میں ہے۔٭ امریکہ جو آج تک شام کے حوالے سے ترکی، سعودی عرب اور قطر کی حمایت کررہا ہے، نئی تنظیم بننے کی صورت میں اس تنظیم کی سنجیدگی سے حمایت کرے گا کیونکہ سعودی عرب اور قطر غیر جمہوری ہیں، ترکی شدید اندرونی تناؤ کا شکار ہے اور شام کے خلاف تشہیری مہم چلانے سے قاصر ہے چنانچہ توقع کی جاتی ہے کہ جس طرح کہ شام کے خلاف شروع ہونے والی شر انگیزی اپنے آغاز کے دنوں میں روزانہ تشہیری یلغار کی صورت میں ہوا کرتی تھی، شام مخالف محاذ میں المرسی کی شمولیت کے بعد یہ یلغار روزانہ ہوجائے گی۔ مصری صدر کے بارے میں کسی نے کہا تھا کہ "وہ مبارک ڈکٹیٹر شپ کا تسلسل ہیں" اور اب لگتا ہے کہ وہ اس کے علاوہ بھی کچھ ہیں اور وہ کئی کام جو حسنی مبارک امریکہ کے لئے کرنے سے قاصر تھے اب المرسی بڑی آسانی سے انجام دیں گے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب مصری عوام کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کا انقلاب اس بار المرسی نے ہائی جیک کرلیا ہے...